نوری شعر و سخن

آثار و افکار محمد ابراہیم نوری

نوری شعر و سخن

آثار و افکار محمد ابراہیم نوری

طبقه بندی موضوعی

۳۳ مطلب با موضوع «منقبتیں» ثبت شده است

Tuesday, 23 June 2020، 05:16 PM

کریمہء اہلبیت ع

مدح کریمہء اہلیبیت ع

مہرباں مجھ پر نہایت کاتب تقدیر ہے ۔۔۔۔۔۔
شہر معصومہ میں مجھ سا صاحب تقصیر ہے

بنت کاظم کی ثنا کا حق ادا کیسے کروں
مدح معصومہ سے عاجز جب میری تفکیر ہے

متصل تیرے حرم سے ہے خیابان ارم۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اشارہ ہے کہ کل جنت تری جاگیر ہے

بالیقیں ہے زائر معصومہء قم جنتی۔۔۔۔
تیرے روضے کی فصیلوں پر یہی تحریر ہے

قوت_ گویائی ملتی ہے اسے،جو چوم لے
جالیوں میں تیرے روضے کی عجب تاثیر ہے

بھائی کی الفت میں آئی از مدینہ تا بہ قم
کس قدر ہمدرد، شاہ طوس کی ہمشیر ہے۔۔۔

ہے وہی الفت رضا،اخت الرضا کے میاں
جو محبت درمیان زینب و شبیر ہے

منقبت اخت الرضا کی دم بدم لکھتے رہو
بہر تحصیل جناں آسان یہ تدبیر ہے

تیرے روضے کے قریں احساس نوری کو ہوا
 سامنے جیسے ضریح  مادر شبیر ہے

محمد ابراہیم نوری

۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 23 June 20 ، 17:16
محمد ابراہیم نوری نوری
مناقب اھل بیت علیہم السلام :
کلام:محمد ابراہیم نوری
طرحی مصرع:ستم کے شہر میں تحریک انقلاب حسین،
2 شعبان 1438 
 
 
ہے گلستان نبی کا حسیں گلاب حسین....
ہے  کائنات  ھدایت  کا  آفتاب حسین .....
 
موالی کہتے ہیں مجھکو حسین کا شاعر...
کیا ہے تو نے کرم مجھ پہ بے حساب حسین 
 
میں کیوں کروں گا بھلا رخ شراب خانوں کا...
تمھارے عشق کی پیتا ہوں میں شراب حسین.....
بنی ہے سجدہ گہ عاشقاں خدا کی قسم...
تمھارے زیر کف پا ہے جو تراب حسین ...
 
بسا ہے جب سے ترا غم جو خیمہ ء دل میں
نہ کوئی خوف ہے دل میں، نہ اضطراب ہے حسین ....
یہ میری ماں کی طہارت کا ہی نتیجہ ہے..
ہے تیری زات سے میرا جو انتساب حسین 
 
پڑھا جسے تو کوئی حر کوئی حبیب بنا
ہے حریت کا مکمل وھی نصاب حسین ...
 
جھکانا چاہا تھا تو نے یزید جس سر کو
وہ دیکھو نوک سناں پر ہے کامیاب حسین 
 
یہ  انقلاب  خمینی  نے  کر  دیا  ثابت....
ستم کے شہر میں تحریک انقلاب حسین
 
وہ جسکو تھام کے دوزخ سے حر نکل آیا
پئے نجات  بشر ہے  وہی طناب حسین .....
 
اسی زمین پہ بس تو نے ہی قیام کیا......
جھاں تھے انبیاء در حال اضطراب حسین 
 
کیا سوال کہ حجت تمام  ہو جائے...........
وگرنہ کرتا نہ ھرگز سوال آب حسین .....
 
تراب  کر بو بلا  کو  بنا  دیا ہے  شفا........
یہ معجزہ ہے تیرا ابن بو تراب حسین ...
 
جو مشتمل ہے بھتر صفحات پر *نوری*
پئے ھدایت انساں ہے وہ کتاب حسین. ...
eita.com/inoori32mafhh
۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 18 June 20 ، 15:03
محمد ابراہیم نوری نوری
Thursday, 18 June 2020، 03:01 PM

علی اکبر کی مدحت کر رہا ہوں

کلام: محمد ابراہیم نوری
11 شعبان المعظم 1439 ھ ق
 
علی اکبر کی مدحت کر رہا ہوں۔۔  
  عجب حاصل  سعادت کر رہا ہوں 
 
 تمھارے عاشقوں کے ساتھ مل کر
بپا جشن ولادت  کر رہا ہوں۔۔۔۔
 
بہت خوش ہے زلیخاےُ شریعت
کسی یوسف کی مدحت کر رہا ہوں
 
ثناے آلِ احمد میری عادت
عبادت حسبِ عادت کر رہا ہوں
 
میری ماں کی طہارت کا سبب ہے
جو اکبر سے محبت کر رہا ہوں۔۔۔
 
 میں  تیرے جادہُ سیرت پہ چل کر
جناں کی سٙمْت ہجرت کر رہا ہوں
 
کفن پر لکھو بس اکبر کا شاعر۔۔۔۔ 
 میں یہ بھی اک وصیت کر رہا ہوں
 
 نمازِ مدحِ اکبر کے لئے میں۔۔۔۔۔
خلوصِ دل سے نیت کر رہا ہوں
 
مصلاے ثنا پر بیٹھ کر میں  
عبادت ہی عبادت کر ہوں
 
کہا شہ نے جو دیکھا روۓ  اکبر
میں  نانا کی زیارت کر رہا ہوں
 
بشکلِ مدحتِ شبہِ پیمبرؐ
 رقم نعتِ رسالت کر رہا ہوں 
 
 بسا کر دل میں اکبرؑ کی مودت
ادا  اجرِ رسالت کر رہا ہوں۔۔۔۔
 
سرِ خلدِ بریں مدحت کے بدلے
میں تعمیرِ عمارت کر رہا ہوں 
 
  کرم نوری پہ ہے شِبہِ نبیؐ کا
 رقم انکی فضیلت کر رہا ہوں
۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 18 June 20 ، 15:01
محمد ابراہیم نوری نوری
Thursday, 18 June 2020، 02:43 PM

امام سجاد ع

طرحی مشاعرہ 
کلام: *محمد ابراہیم نوری*
مقام: حسینیہ آیت اللہ جزائری قم
منتظمین:طلاب ہندوستان مقیم قم
تاریخ: 9 شعبان المعظم1439 ھ ق
 طرحی مصرع: *بن گئے دین پیمبر کا سہارا سجاد*
 
*مائل مدح و ثنا دل ہے دوبارہ سجاد*
*رزق مدحت ہو عطا مجھ کو خدارا سجاد*
 
*غیر ممکن میرے افکار سے مدحت تیری*
*سو قلم ہی کو ذرا دے دو سہارا سجاد*
 
*ہے رواں پاک لہو میری رگوں میں جس نے*
*تیری مدحت کے لئے مجھ کو ابھارا سجاد*
 
ناتہ جوڑوں تیرے دشمن سے میں توبہ توبہ
کسی صورت نہیں یہ ہم کو گوارا سجاد
 
*عصر حاضر کا فرزدق ابھی کہلاوں میں*
*ہو اگر لطف وکرم مجھ پہ تمھارا سجاد*
 
حافظ و ناطقِ قرآن ہو تم رب نے جب ہی
ایک قرآن وفا تجھ پہ اتارا سجاد
 
*پانچ شعبان کو دنیا میں تیرے آنے سے*
*قسمت دین کا چمکا ہے ستارہ سجاد*
 
*ہے پدر تیرا ہی سردار جوانان جناں*
*یعنی جنت  پہ بھی ہے  تیرا اجارا سجاد*
 
*قلب مومن ہے بہت شاد تیری آمد سے*
*ہر منافق کا کلیجہ ہوا پارہ  سجاد*
 
*بس یہی کافی ہے محشر میں شفاعت کے لئے*
*ہم نے جو پل تیری مدحت میں گزارا سجاد*...
 
*دی یہی غیبی مؤذن نے اذان مدحت*..
*مسجد صبر و رضا کا ہے منارا سجاد*..
 
 *قرةالعین ہے شبیر پئے عین اللہ*
*اور شبیر کی آنکھوں کا ہے تارا سجاد*
 
*تو نے گلہاے مناجات و دعا کی صورت* 
*گلشن دین محمد کو نکھارا سجاد*
 
*صبر ایوب بھی حیراں ہے سر کربوبلا*..
*دیکھ کر سلسلہ ء صبر تمھارا سجاد*..  
 
*خدمت خلق خداوند جہاں میں تو نے*...
*شب گزاری تو کبھی روز گزارا سجاد*.... 
 
*زندگی سجدہ معبود نے پائی تجھ سے*..
*ہے جبھی سجدہ گزاروں کا ہی نعرہ سجاد*... 
 
*بیڑی و ہتھکڑی و طوق سبھی ہار گئے*..
*حق کی راہوں میں مگر عزم نہ ہارا سجاد*...
 
 *زینت سجدہ گزاران جہاں ذات تیری*
 *اس لقب سے تجھے ھاتف نے پکارا سجاد*...
 
*کیوں کہیں کیسے کہیں، ہم تمہیں بیمار امام*...؟
*ہے  تیرا نام مسیحا جو ہمارا سجاد*.
 
*ناشر مقصد شبیر کی صورت نوری*
*بن گئے دین پیمبر کا سہارا سجاد*
۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 18 June 20 ، 14:43
محمد ابراہیم نوری نوری
Thursday, 18 June 2020، 02:40 PM

امام رضا ع

مدحت شاہ خراسان
کلام:محمد ابراہیم نوری
 
عطا ہے مجھ پہ یہ رب علا کی
جو میں نےابن کاظم کی ثنا کی  
 
 یہاں جو حوزہ ہای علمیہ ہیں1
عطا ہے یہ کریمہ فاطمہ کی 
 
براے  مدحت آل پیمبر۔۔۔۔۔۔
متاع شاعری حق نے عطا کی۔۔۔
 
 عقیدت  سے شہہ مشہد کےدر پر 
جبیں خم ہے ہر اک شاہ و گدا کی
 
حقیقی امتی ہے مصطفی کا
وہ جس نے شاہ مشہد سے وفا کی 
 
رہ جنت کا راہی ہے یقینًا
زیارت جس نے کی اخت الرضا کی 
 
ہے اسکی موت بھی مثلِ شہادت
تری الفت میں جس نے بھی قضا کی۔۔۔
 
دعائیں ہوگئیں مقبول میری
وساطت سے تمھاری جب دعا کی
 
نجف،کربوبلا،قم،شہرِ مشہد
برستی ہے یہاں رحمت خدا کی۔۔۔
 
لقب ہے عالِم آلِ محمدؐ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفت یہ خاص ہے مولا رضا کی 
 
 یہ دیتا ہے بنا مانگے ہی سب کچھ
یہ عادت ہے علی موسی رضا کی
 
یہاں خوش ہے سوا یہ طائر دل
عجب تاثیر ہے ،شہرِ رضا کی۔۔۔۔
 
رضاے رب اکبر چاہتے ہو؟
 کرو حاصل رضا نوری رضا کی۔۔۔
 
1 قم
۰ نظر موافقین ۰ مخالفین ۰ 18 June 20 ، 14:40
محمد ابراہیم نوری نوری