Thursday, 15 September 2022، 02:15 PM
مری ہستی یوں ہی محو عزاداری رہے گی
یہ مجھ پر شہ کے غم کی کیفیت طاری رہے گی
مری ہستی یوں ہی محو عزاداری رہے گی
سناں کی نوک سے اک سر صدا یہ دے رہا ہے
کہ اہل حق کے دل پر میری سرداری رہے گی
جگانے کے لئے خفتہ بشر کو تا بہ محشر
مرے شبیر کی تحریک بیداری رہے گی
بہت وزنی ہے تیر حرملہ اصغر کی نسبت
ہنسی اصغر کی اس پر تا ابد بھاری رہے گی
یزیدان زمانہ مات کھاتے ہی رہیں گے
خلاف ظلم، جنگ کربلا جاری رہے گی
ہے نورانی سفینہ سے اسے اک خاص نسبت
سو میرے خامے کی یہ تیز رفتاری رہے گی
مرا جادہ حسینی اور ترا رستہ یزیدی
سو تجھ سے دسمنی نوری کی اے ناری رہے گی
22/09/15


